8 مئی 2019 - 17:18
پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف فرینکفرٹ میں احتجاجی مظاہرہ+ تصاویر

مظاہرین کا حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ تھا کہ پاکستان کے ہر خطے میں بالخصوص شہر قائد کراچی سےجبری طور پر گمشدہ و لاپتہ کئے گئے افراد کو حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے قانون کے تحت آذاد کیا جائے اور اگر ان میں کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاک حیدری ایسوسی ایشن فرینکفرٹ رجسٹرڈ کے زیر اہتمام سوموار کو پاکستان میں شیعہ مسنگ پرسنز اور جبری گمشدگیوں کے خلاف قونصلیٹ آف پاکستان فرینکفرٹ کے سامنے کمیونٹی ارکان نے ایک بڑی تعداد میں صداۓ احتجاج بلند کی.

مظاہرین کا حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ تھا کہ پاکستان کے ہر خطے میں بالخصوص شہر قائد کراچی سےجبری طور پر گمشدہ و لاپتہ کئے گئے افراد کو حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے قانون کے تحت آذاد کیا جائے اور اگر ان میں کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے. اس مظاہرہ کا مقصد انصاف کی آواز کو بلند کرنا اور پاکستان میں اس وقت صدر ہاؤس کے سامنے شیعہ مسنگ پرسنز کے اہک خانہ کے دیے ہوئے دھرنے کی بھرپور حمایت اور اظہار یکجہتی تھا. اس مظاہرہ میں سیکنڈ قونصلر جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ شعیب منصور نے انجمن پاک حیدری ایسوسی ایشن فرینکفرٹ رجسٹرڈ کے عہدیداران سے احتجاجی پٹیشن لینے پر شرائط ظاہر کیں جو فرینکفرٹ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے. انھوں نے شعیہ قوم کے بزرگان جو کئ دھائیوں سے فرینکفرٹ میں مقیم اور محب وطن پاکستانی ہیں کو احتجاجی یادداشت پیش کرنے کے لیے قونصل خانے میں آنے سے روکا اور مزید برآں یہ شرط بھی ظاہر کی کہ اپنے ہمراہ کسی بھی قسم کا موبائل فون و دیگر کیمرہ آلات نہ لاۓ جائیں. جس سے مظاہرہ میں شریک افراد نے سیکنڈ قونصل جنرل شعیب منصور سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ  قونصل خانے سے خود باہر آئیں اور احتجاجی پٹیشن کو موصول کریں. ماضی میں ہمیشہ یہی روایت رہی ہے کہ سابقہ قونصلر صاحبان باہر آکر احتجاجی پٹیشن کو موصول کرتے تھے اور پیغام رسانی اور تعاون کا یقین دلاتے تھے. اس سے بڑھ کر پاکستانی پریس کلب فرینکفرٹ کے نائب صدر ایم اے اشرف صاحب کو بھی قونصل خانے سے باہر نکال دیا گیا. ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جبری طور پر شیعہ گمشدہ افراد کو بازیاب کرایا جاۓ اور سیکنڈ قونصل جنرل فرینکفرٹ شیعب منصور کی اس رویے کا از سر نو نوٹس لیا جائے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲